کم عمری میں شادی: ’مجھے 12 سال کی عمر میں نو ڈالر میں شادی کے لیے فروخت کر دیا گیا‘
اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک لڑکی کی شادی 18 سال کی عمر تک ہو جاتی ہے۔ جن ممالک میں کم عمری میں شادی کے خلاف قوانین ہیں وہاں بھی کئی بار ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا لیکن افریقہ کے ملک ملاوی میں اس رجحان میں تبدیلی کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں
۔
3271059
جب ہم تمارا سے تیسری بار ملاقات کرنے کے لیے ان کے گھر پہنچے تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ علی الصبح ہی کھیتوں میں کام کرنے کے لیے روانہ ہو گئیں تھیں۔
وہ اپنے حمل کے نویں مہینے میں ہیں لیکن 13 سال کی تمارا اس حالت اور اس عمر میں بھی اس قدر مشقت کر رہی ہیں۔
تمارا (فرضی نام) کئی مہینوں سے اپنی خالہ کی جھونپڑی کے فرش پر سو رہی ہیں۔ اس سے پہلے وہ اپنے خاوند کے ساتھ تھیں لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ سرکاری اہلکار تمارا کو اس غیر قانونی شادی سے بچانے کے لیے آ رہے ہیں تو وہ اُن کے آنے سے پہلے فرار ہو گیا جبکہ تمارا پیدل سفر کر کے اپنی خالہ کے گاؤں پہنچیں۔ تمارا کے شوہر کی عمر 20 کے پیٹے میں ہے۔
گذشتہ چند سال میں تمارا کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان کا تعلق جنوبی ملاوی کے ایک دیہی کسان گھرانے سے ہے۔
خطے میں رہنے والے باقی 65 فیصد لوگوں کی طرح تمارا اور ان کا خاندان بھی حکومت کی طرف سے بیان کردہ غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں۔
3271059
یوکرین، ملاوی کے ساتھ براہ راست تجارت کرتا ہے لیکن جنگ کی وجہ سے وہاں سے گندم اور کھاد آنا رک گئی ہے، اس وجہ سے ان کی قیمتیں زیادہ ہو گئی ہیں اور ان سے غریب گھرانوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
جب یکے بعد دیگرے تمارا کے والدین بیماری کی وجہ سے مر گئے تو ان کی دادی نے انھیں اپنے پاس رکھ لیا۔
جب ایک مہینے کے بعد تمارا اپنے سکول سے واپس آئیں تو ان کی دادی نے انھیں ایک خبر سنائی۔
تمارا بتاتی ہیں کہ ’انھوں نے مجھے بتایا میری شادی ہو گی اور انھوں نے ایک شخص سے اس کے لیے پیسے بھی وصول کر لیے ہیں۔‘
تمارا نے جس شخص کو کبھی دیکھا بھی نہیں تھا، اس نے نو ڈالر دے کر انھیں اپنی دلہن بنا لیا۔
تمارا کی دادی نے فوراً ان پیسوں سے اپنے گھر والوں کے لیے مکئی خرید لی تھی جبکہ جس شخص نے یہ پیسے دیے تھے وہ چاہتا تھا کہ تمارا سکول چھوڑ کر اس کے ساتھ رہنا شروع کرے۔
2017 سے ملاوی میں کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی ہے لیکن اس ملک میں یہ ایک پرانا رواج ہے اور اب بھی دیہی علاقوں میں جاری ہے۔ ملاوی میں 85 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جبکہ ایک سرکاری تنظیم ’گرلز ناٹ برائڈز‘ کے مطابق ملاوی میں 40 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کی شادی 18 سال سے بھی کم عمر میں ہو جاتی ہے۔
تمارا بتاتی ہیں ’زندگی کافی مشکل تھی کیونکہ وہ مرد عمر میں بڑا تھا۔ وہ میرے اوپر تشدد کرتا تھا۔‘
وہ اس کے ساتھ تین ماہ تک رہیں لیکن پھر کسی نے سوشل سروسز کو ان کی شادی کے متعلق اطلاع دے دی۔
اس کے بعد جب تمارا کو واپس سکول بھیجنے کی تیاری کی جا رہی تھی تو انھوں نے مشاہدہ کیا کہ انھیں ماہواری نہیں ہو رہی۔
Comments
Post a Comment